کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کےبارےمیں کہ حج یا عمرہ میں کوئی واجب عمل چھوڑجائے اور اس پر دم لازم ہو آجائے،تواس دم میں جو جانور حرم میں ذبح کرتے ہیں تو دم والے جانور میں قربانی والے جانور کی طرح شرائط ہوگی،یا کسی بھی جانور کو ذبح کرسکتے ہیں ؟
سوال
واضح رہے کہ حج یا عمرہ میں جو بھی دم واجب ہوجائے اُس میں وہ جانور ذبح کرنا ضروری ہے،جس میں قربانی کی شرائط موجود ہوں،جیسے بیل اور گائے میں دو سال اور اُونٹ میں پانچ سال بکرا یا دُنبہ میں ایک سال عمر شرط ہے،اسی طرح اس جانور کاعیوب سے پاک ہونا وغیرہ دیگر شرائط بھی معتبر ہیں۔
لہذا صورت مسئولہ میں حج یا عمرہ جب دم لازم ہو جائے تو دم میں جو جانور ذبح کیا جائے، اس جانور میں بھی قربانی کی طرح شرائط کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔
الجواب وباللہ التوفیق
وقولہ ولا یجوز فی الھدیا إ لا ما جاز فی الضحایا
(ردالمختار :کتاب:الحج:باب:الھدیہ:ص:۶۱۴:ج:۲)
(ولا يجوز في الهدايا إلا ما جاز في الضحايا)
لأنه قربة تعلقت بإراقة الدم كالأضحية فيتخصصان بمحل واح