بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

رضاعی بھائی کے بھائی سے اپنی بیٹی کے نکاح کرنے کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ صاحب نور نے اپنی چچی کا دودھ پی لیا ہے، اس چچی نےاپنے نواسے کو بھی دودھ دیا ہے۔ اس نواسے کا بھائی جس نے دودھ نہیں پیا ہے، وہ اس سے چھوٹا ہے، اس کے ساتھ صاحب نور کی بیٹی کا نکاح ہو سکتاہے،یا نہیں …؟

سوال

        واضح رہے کہ شریعت مطہّرہ کی رو سے سے جو حرمت نسب کی وجہ سے آتی ہے، وہی حرمت رضاعت کی وجہ سے بھی آتی ہے، لیکن رضاعت کی وجہ سے جو حرمتآتی ہے، وہ صرف اسی رضیع( جس نے دودھ پیا ہے)کے ساتھ خاص ہوگی ۔

        صورت مسئولہ میں جب صاحب نور نے اپنی چچی خدیجہ کا دودھ پی لیا تو یہ چچی اس کی رضاعی ماں بن گئی اور اس کی اولاد صاحب نور کے رضاعی بہن بہائی بن گئے، اور اس  رضاعی بہن بھائیوں کی اولادیں اس کے لئے بھتیجے اور بھانجے ہوئے، البتہ ان بھتیجےیا بھانجوں میں سے جس نے خدیجہ کا دودھ     پیا ہے، وہ بهی صاحب نور کا رضاعی بھائی ہے، پس رضاعی بھائی کے علاوہ دیگر بھانجوں یا بھتیجیوں کے ساتھ صاحبنور کی بیٹی کا نکاح درست ہے۔

الجواب وباللہ التوفیق

                          و تحلّ اخت اخيه رضاعاً كما تحل نسباً ..

الدر المختار، جلد 2 ، صفحه 398

            ويجوز ان یّتزوج الرجل باخت اخيه من الرضاع

هدایہ جلد 2، صفحہ 351

            وكذا يتزوج اخت اخيه من الرضاع ۔

المبسوط ، جلد 5، صفحہ 137

 

والدلیل علی ذالک

جامعہ سے صدقات، خیرات، عطیات اور زکوٰة وغیرہ کی مد میں تعاون کے لیے

Scroll to Top