رضاعی بھائی کے بھائی سے اپنی بیٹی کے نکاح کرنے کا حکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ صاحب نور نے اپنی چچی کا دودھ پی لیا ہے، اس چچی نےاپنے نواسے کو بھی دودھ دیا ہے۔ اس نواسے کا بھائی جس نے دودھ نہیں پیا ہے، وہ اس سے چھوٹا ہے، اس کے ساتھ صاحب نور کی بیٹی کا نکاح ہو سکتاہے،یا نہیں …؟
سوال
واضح رہے کہ شریعت مطہّرہ کی رو سے سے جو حرمت نسب کی وجہ سے آتی ہے، وہی حرمت رضاعت کی وجہ سے بھی آتی ہے، لیکن رضاعت کی وجہ سے جو حرمتآتی ہے، وہ صرف اسی رضیع( جس نے دودھ پیا ہے)کے ساتھ خاص ہوگی ۔
صورت مسئولہ میں جب صاحب نور نے اپنی چچی خدیجہ کا دودھ پی لیا تو یہ چچی اس کی رضاعی ماں بن گئی اور اس کی اولاد صاحب نور کے رضاعی بہن بہائی بن گئے، اور اس رضاعی بہن بھائیوں کی اولادیں اس کے لئے بھتیجے اور بھانجے ہوئے، البتہ ان بھتیجےیا بھانجوں میں سے جس نے خدیجہ کا دودھ پیا ہے، وہ بهی صاحب نور کا رضاعی بھائی ہے، پس رضاعی بھائی کے علاوہ دیگر بھانجوں یا بھتیجیوں کے ساتھ صاحبنور کی بیٹی کا نکاح درست ہے۔