کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ آج کل جس طرح قرعہ اندازی ہوتی ہے،سو(100) روپے کا کوپن دیتے ہیں،جس میں بہت سے انعامات رکھے ہوتے ہیں۔اس میں حصہ لینا کیسا ہے؟
سوال
واضح رہے کہ ہر وہ معاملہ جس میں کسی غیر یقینی واقعے کی بنیاد پر کوئی رقم اس طرح داؤ پر لگائی جائے کہ یا تو وہ اپنی رقم سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے گا یا اسے اس سے زیادہ رقم کسی معاوضے کے بغیر مل جائے گی،تو شرعی اعتبار سے یہ قمار اور میسر کہلاتا ہے جو شرعاً ناجائز ہے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگرسو(100) روپے کا کوپن خریدنا صرف قرعہ اندازی میں شرکت کے لیے ہو،اور اس سے نہ سامان ملتا ہو،اور نہ کوئی حقیقی فائدہ۔تو یہ پھر ’’جوا ‘‘کے حکم میں آتا ہے جوکہ حرام ہے۔
الجواب وباللہ التوفیق
لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى،وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه،ويجوز أن يستفيذ مال صاحبه وهو حرام بالنص۔
(ردالمحتار على الدرالمختار،جلد:6صفحه:403،كتاب الحظر والإباحة،فصل في البيع،مكتبه:ایچ-ایم-سعید کمپنی)۔