کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارےمیں کہ ایک ایسی ویب سائٹ جہاں سود پر ہی قرض کا سسٹم ہو، اس ویب سائٹ کو ڈیولپ کرنا کیسا ہے؟
واضح رہےکہ موجودہ دور میں انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے مختلف مالیاتی خدمات فراہم کی جا رہی ہیں، جن میں قرض کا نظام بھی شامل ہے۔ شریعتِ مطہرہ میں قرض ایک جائز اور باعثِ ثواب عمل ہے، بشرطیکہ وہ بلا سود ہو، جبکہ سودی لین دین کو سختی سے حرام قرار دیا گیا ہے۔ اور قرآن و حدیث میں اس پر شدید وعید آئی ہے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی ویب سائٹ اس مقصد کے لیے بنائی جائے کہ اس کے ذریعے سودی قرض کا نظام چلایا جائے، تو ایسی ویب سائٹ کو بنانا، ڈویلپ کرنا یا اس میں کسی بھی درجے میں تعاون کرنا ناجائز اور حرام ہے، کیونکہ یہ صریح طور پر سود یعنی حرام کام میں معاونت ہے۔
البتہ اگر ویب سائٹ عمومی نوعیت کی ہو اور اس کا مقصد خاص طور پر گناہ نہ ہو، تو اس کا حکم مختلف ہو سکتا ہے، لیکن مذکورہ صورت میں چونکہ پورا نظام ہی سود پر قائم ہے، اس لیے اس میں کسی قسم کی گنجائش نہیں۔
’’ وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا”
(سورۃ البقرۃ: 275/3)
’’ مطلب: كل قرض جر نفعًا حرام(قوله:كل قرض جر نفعًا حرام) أي إذا كان مشروطًا، كما علم مما نقله عن البحروعن الخلاصۃ وفی الذخیرۃ وان لم یکن النفع مشروطافی القرض فعلی قول الکرخی لا بأس بہ‘‘
(رد المحتار /5:166ایم ایج سعيد)
’’ قال الله تعالى : { وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ }إن الإعانۃ علی المعصیۃ حرام قطعًا بنص القرآن، ولکن الإعانۃ حقیقۃ ہي ما قامت المعصیۃ بعین فعل المعین‘‘
(جواھرالفقۃ:عربی مترجم:453/2)