بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ


مسئلہ پوچھیں ؟


رابطہ کریں

چاول کی خرید و فروخت کا معاملہ”بیع عینہ”کے طور پر کرنا

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ یورپ کے بعض ممالک میں اسٹوڈنٹ ویزے کے حصول کے لیے بینک اسٹیٹمنٹ پیش کرنا ضروری ہوتا ہے، جس میں عموماًاسی( 80 )سےپچاسی( 85 )لاکھ روپے مخصوص مدت (مثلاً دو یا تین ماہ) کے لیے بینک اکاؤنٹ میں رکھنا لازم ہوتا ہے، اور اس دوران ان رقوم کو استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

عام طور پر اتنی بڑی رقم نقد موجود نہیں ہوتی، اور اگر ہو بھی، تو کاروباری ضرورت کی وجہ سے اتنے عرصے کے لیے رقم کو بلا استعمال رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ لہٰذا بعض لوگ دوسروں سے یہ رقم عارضی طور پر بطور امانت یا تعاون حاصل کرتے ہیں تاکہ بینک اسٹیٹمنٹ دکھائی جا سکے، اور بعد میں رقم واپس کر دی جاتی ہے۔

اسی سلسلے میں ایک شخص، جسے بینک اسٹیٹمنٹ کے لیے وقتی طور پر رقم کی ضرورت تھی، مجھ سے کہاکہ آپ چونکہ چاول کا کاروبار کرتے ہیں تومجھے چاول ادھار میں اس قیمت پر فروخت کریں جو بازار کی عام قیمت سے زیادہ ہو، اور پھر یہی چاول آپ نقد     میں میری طرف سے کسی تیسرے شخص کو بیچ دیں، کم قیمت پر، تاکہ مجھے نقد رقم مل جائے۔ اس طرح میرے اکاؤنٹ میں مطلوبہ رقم آ جائے گی، جو میں بینک کو بطور اسٹیٹمنٹ دکھا سکوں گا، اور آپ کو اس معاملے سے کچھ نفع بھی حاصل ہو جائے گا۔چونکہ  ان چاولوں کو کم قیمت پر بیچنے میں بھی کچھ نفع موجود ہے، توکیا میں خود ہی ان چاولوں کو دوبارہ خرید سکتا ہوں؟

کیا اس طرح کسی شخص پر مارکیٹ کی عام قیمت سے زیادہ پر کوئی مال (مثلاً چاول) ادھار میں فروخت کرنا، اور پھر وہی مال اسی شخص سے  کم قیمت پر واپس خرید لینا شرعاً درست ہے؟ اور  اس صورت میں   حاصل ہونے والا نفع شرعاً جائز اور حلال ہو گا یا نہیں؟

سوال

        واضح رہے کہ جب ایک شخص کسی دوسرے کو کوئی چیز فروخت کرتا ہے اور پھر وہی چیز عموماً کم قیمت پر خریدار سے واپس خرید لیتا ہے، تو اس کا اصل مقصد عملاً قرض دینا یا لینا ہوتا ہے، لیکن سود سے بچنے کے لیے اس کو خرید و فروخت کی صورت دی جاتی ہے۔ فقہی اصطلاح میں اس قسم کے معاہدے کو “بیعِ  عِینہ” کہا جاتا ہے،شریعت کی نظر میں یہ طریقہ ناجائز ہے اور سود خوری کا ہی ایک چکر ہے۔ حدیثِ شریف میں اس طرح کے معاملے کو ذلت اور رسوائی کا سبب قرار دیا گیا ہے۔ سود کا لینا، دینا اور اس میں تعاون کرنا سب حرام اور موجبِ وعید ہے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جو طریقہ بیان کیا گیا ہے، جس میں محض قرض کے ذریعے نفع حاصل کرنے سے بچنے کے لیے خرید و فروخت کی ظاہری شکل اختیار کی جاتی ہے، جبکہ حقیقت میں مال نہ خریدا جاتا ہے نہ قبضہ کیا جاتا ہے، بلکہ اصل مقصد نفع کمانا ہوتا ہے ،اس طرح کا لین دین کرنا یا تعاون کرنا شرعاً ناجائز و حرام ہے، اور اس سے مکمل اجتناب لازم ہے۔

البتہ اگر مذکورہ شخص وہ چاول کسی تیسرے فرد کو نقد میں کم قیمت پر خود فروخت کرے، یا آپ کو اپنا وکیل بنا دے تاکہ آپ اس کی طرف سے کسی تیسرے شخص کو وہ چاول فروخت کریں، تو یہ صورت جائز ہے۔لیکن وہی چاول خود ہی دوبارہ خرید لینا، یا یہ شرط لگانا کہ “یہ چاول تم مجھ ہی کو فروخت کرو گے”، شرعاً ناجائز ہے، کیونکہ یہ حیلۂ سود پر مبنی معاملہ ہے جس کی شریعت میں اجازت نہیں۔

الجواب وباللہ التوفیق

” (و)فسد(شراء ماباع بنفسہ أو بوکیلہ) من الذی إشتراہ ولو حکما کوارثہ (بالأقل) من قدر الثمن الأول(قبل نقد)کل(الثمن)الأول، صورتہ:باع شیئا بعشرۃ ولم یقبض الثمن ثم شراہ بخمسۃ لم یجز وإن رخص السعر للربا۔”

       (رد المختار علی الدر المختار:۵/۷۳)

“(قولہ فی بیع العینۃ) اختلف المشائخ فی تفسیر العینۃ التی ورد النھی عنھا۔قال بعضھم:تفسیرھا أن یأتی الرجل المحتاج إلی آخر ویستقرضہ عشرۃ دراھم ولا یرغب المقرض فی الإقراض طمعا فی فضل لا ینالہ بالقرض، فیقول:لا أقرضک، ولکن أبیعک ھذا الثوب إں شئت باثنی عشر درھما، وقیمتہ فی السوق عشرۃ، لیبیعہ فی السوق بعشرۃ، فیرضی بہ المستقرض فیبیعہ کذلک، فیحصل لرب الثوب درھما، وللمشتری قرض عشرۃ ۔ وقال بعضھم: ھی أن یدخلا بینھما ثالثا، فیبیع المقرض ثوبہ من المستقرض بإثنی عشر درھما، ویسلمہ إلیہ ثم یبیعہ الثالث من صاحبہ وھو المقرض بعشرۃ ویسلمہ إلیہ، ویأخذ منہ العشرۃ ویدفعھا للمستقرض فیحصل للمستقرض عشرۃ ولصاحب الثوب علیہ اثنا عشر درھما، کذا فی المحیط،۔۔۔وقال محمد: ھذا البیع فی قلبی کأمثال الجبال ذمیم اخترعہ أکلۃ الربا۔وقال ؑ:إذا تبایعتم بالعینۃ واتبعتم أذناب البقر ذللتم وظھر علیکم عدوکم۔”           

 (رد المحتار علی الدر المختار:۵/۲۷۳)

“عن جابر،قال:لعن رسول اللہﷺ آکل الربان ومؤکلہ، وکاتبہ، وشاھدیہ۔ و قال: ھم سواء۔”                         

                              (الصحیح المسلم:۳/۱۲۲۹)

“عن ابن عمرؓ قال:قال رسول اللہﷺ:إذا تبایعتم العینۃ،وأخذتم أذناب البقر، ورضیتم بالزرع، وترکتم الجھاد، سلط اللہ علیکم الذلۃ، لا ینزعہ حتی ترجعوا  إلی دینکم۔”

        (سنن ابی داؤد: الحدیث:۳۴۶۲)

والدلیل علی ذالک


یہاں پر کلک کریں

جامعہ سے صدقات، خیرات، عطیات اور زکوٰة وغیرہ کی مد میں تعاون کے لیے


Scroll to Top