بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

گھربنانے یادرخت لگانے سے پڑوسی کی زمین کو نقصان پہنچتاہوتواس کاشرعی حکم

کیافرماتےہیں علمائےکرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کےبارےمیں کہ دوآدمیوں کی زمینیں ملی ہوئی ہیں۔مثلاً ایک آدمی کی زمین کی حدود جہاں ختم ہوتی ہےوہاں سےآگےدوسرےآدمی کی زمین شروع ہوتی ہے۔اب ایک آدمی اپنی زمین کےآخری حصےمیں درخت لگاتاہے یاگھر بنالیتاہے اور اس کی وجہ سے دوسرےآدمی کی زمین کونقصان پہنچتاہے۔آیاشرعا ایساکرناجائزہےیانہیں؟جبکہ وہ آدمی اس سےدرخت یاگھر ہٹانے،گرانےکامطالبہ کرتا ہو توکیاحکم ہے؟یااگرپہلےسےکسی نےدرخت یاگھربنایاہوتو اس کےمتعلق کیاحکم ہے؟

سوال

واضح رہے  کہ احادیث ِ مبارکہ میں پڑوسیوں کے حقوق کی بہت تاکید فرمائی گئی ہے ،ایک حدیث میں آتاہے کہ جوشخص اللہ اورقیامت کے دن پرایمان رکھتاہے اس کوچاہیے کہ پڑوسی کوایذانہ دے ۔اس کے علاوہ متعدروایات میں کئی حقوق بیان فرمائے گئے ہیں ۔

نیز ہرشخص کواپنی ملکیت میں تصرف کرنے کاحق حاصل ہے جیسے چاہے وہ تصرف کرسکتاہے اورکسی شخص کویہ حق نہیں کہ وہ اسے تصرف کرنے سے روکے ،بشرطیکہ اس تصرف میں دوسروں کوکوئی واضح نقصان نہ پہنچتاہو۔

لہذاصورت مسئولہ میں  اگرچہ مالک کواپنے ملکیت میں تصرف کاحق حاصل ہے لیکن  ایساتصرف ممنوع ہے جودوسروں کےلیے ضررکاباعث بنے تواگر واقعی پڑوسی کی زمین کو گھربنانے یادرخت لگانے سے نقصان پہنچتاہوں تومالک پرلازم ہے کہ اس نقصان کاازالہ کرے یاپڑوسی مالک کی اجازت سے اس نقصان کودورکرے اسی طرح اگرگھریادرخت پہلے سے موجودہوتوبھی مالک پرواجب ہے کہ اس نقصان کاازالہ کرے ۔

الجواب وباللہ التوفیق

’’حدثنا عاصم بن علي: حدثناابن ذئب ،عن سعید ،عن أبي شریح أن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال :واللہ لایؤمن واللہ لایؤمن ،واللہ لایؤمن ، قیل :ومن یارسول اللہ ؟ قال :الذي لایأمن جارہ بوایقعہ․‘‘

     ( صحیح البخاری، باب إثم من لایأمن جارہ بوایقہ یھلکن مھلکا،جلد8،صفحہ10)

’’عن عبادۃ بن الصامت ؛أن رسول اللہ ﷺ قضی أن لاضرر ولاضرار․‘‘

 (سنن ابن ماجہ،باب من بنی في حقی مایضربجارہ،جلد4،صفحہ27)

’’ کل یتصرف في ملکہ المستقل کیفما شاء أي یتصرف کمایریدباختیارہ أي لایجوز منعہ من التصرف من قبل أي أحد ھذإذالم یکن في ذلک ضررفاحش للغیر ․‘‘

           (دررالحکام شرح مجلۃ الأحکام،الباب الثالث،في بیان المسائل المتعلقۃ بالحیطان والجیران،جلد3،صفحہ201)

والدلیل علی ذالک

جامعہ سے صدقات، خیرات، عطیات اور زکوٰة وغیرہ کی مد میں تعاون کے لیے

Scroll to Top