بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

ہڈی اور بغیر ہڈی کی گوشت کو کمی زیادتی سے تبادلہ کرنا

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم چکن کی فیلڈ سے وابستہ ہیں ۔ ڈیلی کی بنا پر ایکسچینج کرتے رہتے ہیں ، ہم بون لیس دس (10)کلو دے کر اس کے بدلے سےپندرہ (15) کلو ہڈی والا گوشت لیتے ہیں ۔ کیا یہ سود کے زمرے میں اتا ہے ؟ ہم روز مرغی کا بغیر ھڈی گوشت دس کلو کے بدلے میں 15کلو ھڈی والے گوشت سے بدلتے ہیں کیا ایسا کرنا شرعاً درست ہے؟

سوال

واضح رہے کہ سود سے متعلق فقہائے کرام نے احادیث مبارکہ سے یہ قاعدہ مستنبط کیا ہے کہ دوہم جنس چیزوں کا آ پس میں تبادلہ کرتے وقت اس میں تفاضل (کمی زیادتی ) حرام ہے ۔اور دونوں کا وزن برابر ہونا ضروری ہے، چاہے ان کے اوصاف میں فرق ہو۔
لہذا صورت مسئولہ ایک ہی جنس والے جانور کے ہڈی والے گوشت کو زیادہ مقدار میں لے کر بغیر ہڈی والے گوشت کے بدلے میں دینا شرعا جائز نہیں اور یہ ربا کےزمرے میں آتا ہے۔ کیونکہ ہڈی اور گوشت ایک ہی جنس ہے ،اس لیے اس میں کمی اور زیادتی سے تبادلہ کرنا جائز نہیں ۔
البتہ مختلف الجنس جانوروں ہڈی والے گوشت کو زیادہ مقدار میں لے کر بغیر ہڈی والے گوشت کے بدلے میں دینا شرعا جائز ہے ۔

الجواب وباللہ التوفیق

وعلته أي علة تحريم الزيادة (القدر)ا لمعهود بكيل أو وزن (مع الجنس فإن وجدا حرم الفضل) أي الزيادة (والنساء) بالمد التأخير فلم يجز بيع فیہم بقفيزین منه متساويا وأحدهما نساء۔۔۔۔۔(وإن وجد أحدهما) أي القدر وحده أو الجنس (حل الفضل وحرم النساء) ولو مع التساوي۔

( الد رالمختارکتاب الربا ج 5 ص 172)

قولہ( ویجوزبیع اللحمان المختلفۃ بعضا ببعض متفاضلا) یعنی الحم البقرۃ بلحم الابل او بلحم الغنم اما لحم البقرۃ والجاموس جنس واحد وان اختلف الوانھا

(الجوھرۃ النیرہ شرح مختصر القدوری،کتاب البیوع،باب الربا ص ۲۷۷)

والدلیل علی ذالک

جامعہ سے صدقات، خیرات، عطیات اور زکوٰة وغیرہ کی مد میں تعاون کے لیے

Scroll to Top