کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے بہنوئی نے اسٹیٹ لائف سے بیمہ پالیسی لے رکھی تھی۔ اب بہنوئی کا انتقال ہو گیا ہے۔ بہن کو اسٹیٹ لائف کی طرف سے پیسے ملے ہیں۔ شرعی مسئلہ کی رو سے اصل اپنی رقم رکھنے کے بعد سود والی رقم کو بغیر ثواب کی نیت سے صدقہ کرنے کا حکم ہے۔ پوچھنا یہ تھا کہ کیا اس بغیر ثواب والی رقم سے میں ان سے کچھ رقم لے کر اپنا قرض اتار سکتا ہوں یا نہیں؟۔ جبکہ میں سرکاری ملازم بھی ہوں اور خرچے نہ پورے ہونے کی وجہ سے میں یہ قرض اتار سکتا ہوں کہ نہیں۔؟ برائے مہربانی شرعی حیثیت سے جواب ضرور دینا۔
واضح رہے کہ شریعت مطہرہ کی رو سے حرام مال اصل مالک کو لوٹانا ضروری ہے ،لیکن اگر اصل مالک معلوم نہ ہوتوخلاصی کی صورت یہ ہو سکتی ہے ک گزشتہ گناہ پر پشیماں اور نادم ہو کر استغفار کرے اور اس حرام مال کو بغیر نیت ثواب ان فقرا پر صدقہ کرے جن کو اس کی حرمت کا علم نہ ہو ،اور جن کو اس کی حرمت کا علم ہو ان کے لیے یہ رقم لینا مکروہ ہے ۔
صورت مسئولہ میں اگر آپ صاحب نصاب مستحق زکوہ نہیں ہیں تو آپ کے لیے یہ رقم لینا جائز نہیں ہے ۔اور اگر صاحب نصاب نہیں ہیں تو آپ کا اس رقم کو لے کر اپنا قرضہ ادا کرنے کی گنجائش ہے تاہم ایسا کرنا کراہت سے خالی نہیں ۔
إن ها هنا شيئان:ا حدهما: ائتمار أمر الشارع والثواب عليه. والثاني: التصدق بمال خبيث، والرجاء من نفس المال بدون لحاظ رجاء الثواب من امتثال الشارع، فالثواب إنما يكون على ائتمار الشارع، وأما رجاء الثواب من نفس المال فحرام، بل ينبغي لمتصدق الحرام أن يزعم بتصدق المال تخليص رقبته ولا يرجو الثواب منه، بل يرجوه من ائتمار أمر الشارع، وأخرج الدارقطني في أواخر الكتاب: أن أبا حنيفة رحمه الله سئل عن هذا فاستدل بما روى أبو داود من قصة الشاة والتصدق بها.
(العرف الشذي شرح سنن الترمذي ج 1 ص 38)
لايجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصابًا أي مال كان ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب، وإن كان صحيحًا مكتسبًا، كذا في الزاهدي‘
(فتاوی ھندیہ ج 1 ص 189)
(قوله الحرمة تتعدد إلخ: وما نقل عن بعض الحنيفة من أن الحرام لا يتعدى ذمتين، سألت عنه الشهاب ابن الشلبي فقال: هو محمول على ما إذا لم يعلم بذلك، أما لو رأى المكاس مثلا يأخذ من أحد شيئا من المكس ثم يعطيه آخر ثم يأخذ من ذلك الآخر آخر فهو حرام اهـ.۔۔۔ سئل الفقيه أبو جعفر عمن اكتسب ماله من أمراء السلطان ومن الغرامات المحرمات وغير ذلك هل يحل لمن عرف ذلك أن يأكل من طعامه؟ قال أحب إلي في دينه أن لا يأكل ويسعه حكما إن لم يكن ذلك الطعام غصبا أو رشوة۔
(الدر المختار ج 5 ص 98-99 )