بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

بچّوں کوگود یا کندھے پر بٹھا کر نماز پڑھنے کا حکم

 کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس  مسئلہ کے بارے میں کہ دوران نماز بچوں کو گود میں اٹھا کر یا کندھے پر بٹھا کر نماز پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟ وضاحت فرمائیں۔

سوال

واضح رہے کہ ہر وہ ذائدعمل جو نماز کا حصّہ نہ ہو اور نہ ہی نماز کی اصلاح کے لیے کیا جائے، وہ نماز کو فاسد کر دیتا ہے۔لہذااگر کوئی شخص نماز میں ایسا عمل کرے جو دیکھنے والے کو یقین دلا دے کہ وہ نماز میں نہیں، تو وہ نماز کو فاسد کر دے گا، اور اگر معمولی حرکت ہو جس سے شک ہو کہ وہ نماز میں ہے یا نہیں، تو وہ عمل قلیل ہوگا اور نماز بھی فاسد نہیں ہوگی۔
لہذااگر کوئی شخص نماز میں بچے کو اٹھائے تو اس کی نماز درست ہوگی، لیکن بلا ضرورت ایسا کرنا مکروہ ہے۔ البتہ، اگر کوئی دوسرا بچے کو سنبھالنے والا نہ ہو اور بچہ رو رہا ہو، تو ایسی صورت میں نماز کے دوران اسے اٹھانا مکروہ نہیں ہوگا۔

الجواب وباللہ التوفیق

’’صلى وهو حامل صبيًّا جازت صلاته ويكره ولو لم يكن هناك من يحفظه ويتعهده وهو يبكي فلايكره، هكذا في محيط السرخسي‘‘

  (فتاوی عالمگیریّۃ جلد۱ صفحہ۱۰۷)

’’وکذا اذا تردی برداءٍ او حمل شئاً خفیفاً یحمل بیدٍ واحد او حمل صبیّاً او ثوبا علیٰ عاتقہ لم تفسد الصلاة‘‘

                                   (فتاوی عالمگیریّۃ جلد۱ صفحہ۱۰۳)

’’ ولو ادّھن او سرح  لحیتہ  او حملت امراۃصبیھا وارضعتہ  فسدت الصلاۃ ،فاما حمل الصبیّی  بدون الارضاع فلا یوجب فساد الصلاۃ ،لما روی : ان النبیی ﷺ کان یصلی فی بیتہ و قد حمل امامة بنت ابی العاص علی عا تقہ فکان  اذا سجد وضعھا واذا قام رفعھا ، ثم ھذا الصنیع لم یکرھ  منہﷺ لانہ کان محتاجاً الی ذالک لعدم من یحفظھا او  لنیانہ الشرع با الفعل ان ھذا غیر موجب فساد الصلاة‘‘

    (حاشیۃ تبیین الحقائق جلد ۱  صفحہ۴۱۲)

والدلیل علی ذالک

جامعہ سے صدقات، خیرات، عطیات اور زکوٰة وغیرہ کی مد میں تعاون کے لیے

Scroll to Top